سن 1843 میں انگریزوں نے تالپور خاندان کی حکومت کا خاتمہ کر کہ موجودہ سندھ اور موجودہ بلوچستان پہ قبضہ کر لیا۔
سِندھی عوام سے ٹیکس کی وصولی کے لیے انگریز سرکار نے 1843 میں محمد علی نامی سردار کو پابند کر دیا۔
کچھ عرصہ بعد محمد علی نے انگریزوں کے کہنے پر سندھیوں سے بہت ہی زیادہ ٹیکس لینا شروع کر دیا جِس سے غریب عوام بہت پریشان ہوئی۔
اُس وقت سندھ کا ہر علاقہ انگریزوں کے قبضے میں تھا سوائے ریاست تھر پارکر اور ریاست خیر پُور کے۔
ریاست تھرپار کا دار الحکومت عُمر کوٹ شہر تھا جِس کے حکمران رانا رتن سنگھ سوڈھا تھے۔
رانا رتن سنگھ سے غریب عوام کی پریشانی نہ دیکھی گئی۔ اُنہوں نے 1843 میں ہی سندھ میں موجود انگریز سپاہیوں کی چوکیوں پر حملے شروع کر دیئے۔
انگریز سرکار رانا رتن سنگھ کی سرکُوبی کے لیئے آئے دن سندھ میں فوجی ٹکڑیاں بھیجتی گئی لیکن رانا رتن سنگھ تھر پارکر کے صحرائی علاقے کا فائدہ اُٹھا کر انگریزوں کو لگا تار شکست دیتے رہے۔
ریاست تھر پارکر کے مشرق میں موجود ریاست جیسلمیر کے راجپوت حکمران راول گج سنگھ بھٹی نے رانا رتن سنگھ کو سپاہی مہیا کر کہ اُن کی طاقت میں اضافہ کر دیا۔
سن 1847 میں رانا رتن سنگھ نے انگریزوں کے وفادار Tax Collecter محمد علی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جِس کی خبر سُن کر انگریز سرکار کے کان کھڑے ہوگئے۔
سندھ میں انگریزوں کی طرف سے لگائے جانے والے قانون عملاً ختم ہوگئے اور سندھ لگ بھگ پوری طرح سے برطانوی سامراج سے آزاد ہوگیا۔
اب انگریزوں نے زیادہ شدت سے سندھ پر حملے شُروع کردیئے لیکن اِس کے باوجود رانا رتن سنگھ نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور مزید 3 سال تک انگریزوں کو اُن کے مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیا۔
سن 1850 میں 7 سال کی بغاوت کے بعد آخر کار انگریزوں نے رانا رتن سنگھ کو پکڑ لیا۔ لیکن Queen Victoria نے سندھ کے انگریز گورنر Robert Keith کو حکم دیا کہ وہ رانا رتن سنگھ کو معاف کر دے اگر رانا رتن سنگھ دوبارہ انگریزوں کے راستے میں رکاوٹ نہ بننے کا وعدہ کرے۔
رانا رتن سنگھ نے معافی نامہ ٹُھکرا دیا اور انگریز سرکار کو صاف صاف الفاظ میں بتا دیا کہ جب تک اُن کے جسم میں جان ہے وہ اپنی عوام کے حق کے لیئے لڑتے رہیں گے۔
تنگ آکر سن 1850 میں انگریز زنجیروں میں جکڑے ہوئے رانا رتن سنگھ کو پھانسی کا پھندہ لگانے کے لیئے ریاست تھر پارکر کے شاہی قلعے عُمر کوٹ کے پاس لے آئے۔ اُس جگہ لوگوں کا ہجوم کھڑا تھا۔
رانا رتن سنگھ سے آخری خواہش پُوچھی گئی۔ رانا جی نے کہا میرے ہاتھ کھول دو۔
رانا رتن سنگھ کے ہاتھ کھول دیئے گئے۔ رانا جی نے مُسکراتے ہوئے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا اور جلاد کو اشارہ کیا کہ وہ اپنا کام کرے۔
جِس کے بعد فوراً رانا رتن سنگھ جی کو پھانسی دے دی گئی۔
اِس طرح اپنی مِٹی کے سچے سپوت اور ایک سچے راجپوت رانا رتن سنگھ سوڈا اپنی رعایا کے حق کے لیئے لڑتے ہوئے قُربان ہوگئے۔
رانا رتن سنگھ کی بہادری اور وفاداری کو آج بھی سِندھی گیتوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
دِل سے سلام ہے ایسے وفادار اور سچے سپوت رانا رتن سنگھ سوڈھا جی کو ۔ 🙏
سوڈھا راجپوت پرمار / پنوار راجپوتوں کی شاخ ہیں۔
پرمار راجپوت سُوریا ونشی راجپوتوں کی شاخ ہیں۔
تمام سُوریا ونشی راجپوت راجا سُوریا دیو کی اولاد ہیں۔